Benefits of Coffee in Urdu

Benefits of Coffee in Urdu
Benefits of Coffee in Urdu

طبی جریدے بی ایم جے میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق روزانہ تین سے چار کپ کافی پینے سے طبی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ کافی پینے والوں میں جگر کی بیمایوں اور کچھ قسم کے سرطان پیدا ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے، جبکہ دماغ کی رگ پھٹنے سے موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے لیکن محققین یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ایسا کافی کی ہی وجہ سے ہوتا ہے۔

اس تحقیقی جائزے کے مطابق حمل کے دوران زیادہ کافی پینا نقصان دہ ہو سکتا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو طبی فوائد حاصل کرنے کے لیے کافی پینا شروع نہیں کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی آف ساوتھ ایمپٹن کے محققین نے کافی کے انسان جسم پر پیدا ہونے والے اثرات کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا، جس میں 200 تحقیقات شامل تھیں اور ان میں بیشتر مشاہداتی تھیں۔

ایسے افراد کی نسبت جو کافی نہیں پیتے، وہ افراد جو تقریباً تین کپ روزانہ کافی پیتے ہیں ان میں دل کی بیماریاں لاحق ہونے یا ان سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

کافی استعمال کرنے کا سب سے بڑا فائدہ جگر کی بیماری اور سرطان کے خطرے کو کم کرنے میں دیکھا گیا۔

تاہم اس تحقیق کے شریک منصف اور یونیورسٹی آف ساوتھ ایمپٹن میں شعبہ میڈیسن سے منسلک پروفیسر پال روڈرک کہتے ہیں کہ اس بنیاد پر وہ نہیں کہہ سکتے کہ کافی پینے سے ایسا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ افراد کی عمر، تمباکو نوشی اور وہ لوگ کتنی ورزش کرتے ہیں یہ تمام عوامل بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

میں تسبیح گن کر کرتا ہوں

میں تسبیح گن کر کرتا ہوں
میں تسبیح گن کر کرتا ہوں

مولانا رومی ؒ ایک دن خرید و فروخت کے سلسلے میں بازار تشریف لے گئے، ایک دکان پر جا کر رک گئے دیکھا کہ، ایک عورت کچھ سودا سلف خرید رہی ہے، سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنا چاہی تو دکاندار نے کہا:
” عشق میں پیسے کہاں ہوتے ہیں چھوڑو پیسے اور جاؤ”
اصل میں یہ دونوں عاشق اور معشوق تھے ۔۔۔ مولانا رومیؒ یہ سن کر بے ہوش ہو کر گر پڑے، دکاندار سخت گھبرا گیا اس دوران میں وہ عورت بھی وہاں سے چلی گئی، خاصی دیر بعد جب مولانا رومیؒ کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا،
مولانا آپ کیوں بے ہوش ہوئے؟
مولانا رومی نے جواب دیا:
میں اس بات پر بے ہوش ہوا کہ تم اور اس وعورت میں عشق اتنا قوی اور مضبوط ہے کہ دونوں میں کوئی حساب کتاب نہیں، جبکہ اللہ کے ساتھ میرا عشق اتنا کمزور ہے کہ، میں تسبیح گن کر کرتا ہوں۔”

Air Conditioner 1 Ton in Urdu

Air Conditioner 1 Ton in Urdu
Air Conditioner 1 Ton in Urdu

ایک ٹن، دو ٹن۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے

ایئرکنڈیشنر کی صلاحیت ٹنوں کے حساب سے کیوں جانچی جاتی ہے؟
اس کا وزن سے کوئی تعلق نہیں 
بلکہ۔۔۔ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

ایک مشہور لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ائیرکنڈیشنر ز کی تنصیب کرنے والی ایک کمپنی کے نمائندے نے ایک معمر خاتون کو بتایا کہ ان کے کمرے میں 4 ٹن کا ائر کنڈیشنر لگایا جائے گا، تو معمر خاتون کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا اور وہ کہنے لگیں ” آپ اتنی بھاری چیز میرے کمرے میں کیسے لے کر آئیں گے؟“

اس ریسٹورنٹ پر آپ کو زندگی بھر مفت برگر کھانے کو ملیں گے اگر آپ یہ انتہائی چھوٹی سی شرط پوری کردیں
ویسے معمر خاتون کی حیرت اتنی بے جا بھی نہیں تھی کیونکہ اکثر لوگ ائر کنڈیشنر کے ٹنوں کو اس کا وزن سمجھ بیٹھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا وزن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو پھر ائیرکنڈیشنر کی کولنگ کی پیمائش ٹنوں میں کیوں کی جاتی ہے، جبکہ یہ تو وزن کی اکائی ہے؟

ویب سائٹ انرجی وینگارڈ کی رپورٹ کے مطابق ائیرکنڈیشنر کی کولنگ کی پیمائش کیلئے ٹن کی اکائی استعمال کرنے کے پیچھے دلچسپ تاریخ ہے۔ قدیم دور میں جب ائیرکنڈیشنر جیسی ٹیکنالوجی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا تو گھروں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے برف کا استعمال کیا جاتا تھا۔ دور دراز پہاڑوں سے لائی جانیوالی اس برف کو امراءکے گھروں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ برف ٹنوں کے حساب سے لائی جاتی تھی، لہٰذا ٹھنڈک کی پیمائش بھی ٹنوں میں کی جانے لگی۔
ائیرکنڈیشننگ کے ماہر ایلی سن ڈیلز بتاتے ہیں کہ ایک ٹن کے ائیرکنڈیشنر سے مراد ایک ایسا ائیرکنڈیشنر ہے جو فی گھنٹہ 12000 برٹش تھرمل یونٹ (BTU ) حرارت آپ کے کمرے سے نکال سکتا ہے۔ ایک بی ٹی یو سے مراد اتنی حرارت ہے جو ماچس کی ایک تیلی کو مکمل طور پر جلائے جانے سے حاصل ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کے پاس ایک ٹن برف ہو تو اسے مکمل طور پر پگھلنے کیلئے 286000بی ٹی یو حرارت کی ضرورت ہو گی ۔اگر ایک ٹن برف 24 گھنٹے میں مکمل طور پر پگھلانا ہو تو اسے 286000 بی ٹی یو حرارت 24 گھنٹے کے درمیان فراہم کر نا ہو گی، جو کہ فی گھنٹہ تقریباً 12 ہزار بی ٹی یو بنتی ہے۔ اس حساب سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا ایک ٹن کا اے سی ایک گھنٹے میں تقریباً 12 ہزار بی ٹی یو حرارت کو کمرے سے نکال باہر کرتا ہے، یعنی اتنی حرارت ہے جو کہ ایک گھنٹے میں ایک ٹن برف کو پگھلانے کیلئے کافی ہو گی