Health Benefits of Tapioca – Sabudana

Health Benefits of Tapioca - Sabudana
Health Benefits of Tapioca – Sabudana

ساگودانےسے سب واقف ھوں گے مگر یہ حاصل کیسے ھوتا ھے یہ بہت ھی کم لوگ جانتے ھیں
آپ لیے موتیوں جیسی غذا کے بارے معلومات چن کر لایا ھوں

ساگو دانہ ،”ساگو” نامی درخت کا پھل کہلاتا ہے جسے ملاکو کے جزیروں میں بویا گیا ۔اس کے علاوہ ساگو دانہ New Guinea میں ” ساگو پام” کے درختوں سے حاصل کیا گیا۔یہ موتیوں کی طرح دانے ہوتے ہیں جنہیں دودھ یا پانی میں پکایا جاتا ہے۔ساگو دانہ میں 94 فی صد نشاستہ ،0.2 گرام پروٹین ،0.5 گرام غذائی ریشہ ، 10 ملی گرام کیلسیم اور 1.2ملی گرام لوہا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔اسی لیے زود ہضم اور بھرپور غذائیت کی حامل ہونے کے سبب ساگو دانہ بچوں اور بیماروں کے لیے بہترین غذا مانی جاتی ہے۔ بیماروں کے علاوہ ساگو دانہ کی کھیر انتہائی مقوّی اور مزے دار میٹھا ہے اور ساگو دانے کو نمکین پانی میں اُبال کر ،اس آمیزہ کو خشک کیا جاتا ہے اور پھر گرم تیل میں تَل کر ساگو دانے کی ” پھُول بڑیاں” تیّار کی جاتی ہیں جو چائے کے ساتھ ایسا مزا دیتی ہیں کہ آپ بے اختیار واہ واہ کہہ اُٹھیں گے۔
ساگودانہ سے ہم سب ہی بخوبی واقف ہیں ہر گھر میں استعمال ہونے والا ساگودانہ اپنے اندر بے شمار فوائد سموئے ہوئے ہے ۔یہ سفید اور گول چھوٹے چھوٹے موتیوں جیسے دانے ہوتے ہیں جنہیں بعض لوگ سابو دانہ بھی کہتے ہیں ۔ساگودانہ بہت ہلکی غذاہے، عموماً لوگوں میں اسے پیٹ کی خرابی، بیماری یا بچوں کی خوراک کے حوالے سے جانا جاتاہے البتہ بچوں ، بیمار افراداور بزرگوں کے علاوہ اسے صحت مند لوگ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔یہ نہایت سستااور آسان طریقہ ہے جسکے ذریعے آپ اپنی توانائی بحال کرکے صحت مند زندگی کی طرف گامزن ہوسکتے ہیں ۔یہ بہت ہلکی اور زود ہضم غذاہے۔

ساگودانہ کے استعمال کے طریقے

*اسے کھیر، پڈنگ، سوپ ، کیک ، پین کیک، بریڈ، کھچڑی او راسکے علاوہ بائنڈنگ یعنی کسی بھی چیز کو گاڑھا کرنے کے لئے استعمال کیاجاتاہے :
*خالی دودھ یا پانی میں پکا کر بھی استعمال کیاجاسکتاہے اورگاڑھاہونے پر حسب ضرورت چینی ملا کر استعمال کیا جاسکتاہے۔
*جو بچے اسے کھانا پسند نہ کریں تو آپ انکے لئے ساگو دانہ کو دودھ میں پکا کرپھر چھان کرانھیں وہ دودھ پلا سکتے ہیں۔
*اسے آلو میں ملا کراس کے مزیدار کٹلس بھی بنائے جا سکتے ہیں۔
*اس کی کھیر میں بالائی،کھویا،پستہ،بادام ملا کر مٹی کے پیالوں میں جماکر کھائیں چاہیں تو عرق گلاب یا کیوڑہ شامل کر لیں۔

ساگودانہ کے فوائد

ساگودانہ میں چھپے ہیں صحت کے وہ فوائد جو آپکے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

پٹھوں کی افزائش میں مدد

اسے آپ اپنی روز مرہ کی غذا میں شامل کرسکتے ہیں۔ساگودانہ آپکو ایک صحت مند پروٹین فراہم کرتاہے ساگودانہ کا استعمال پٹھوں کی مضبوطی کے لیے کیا جاتا ہے۔

ہڈیوں کی نشوونماکو بہتر بناتاہے

اسمیں موجود کیلشیئم، آئرن اور فائبر،ہڈیوں کی صحت اور لچک کو بہتر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اس کا استعما ل آپکو پورے دن میں ہونے والی تھکاوٹ سے نجات دلا سکتاہے۔ اس کے علاوہ اسے بچوں کی ابتدائی غذاؤں مین شامل کیا جاتا ہے تاکہ ان کی ہڈیوں میں جان آئے اور قد بڑھے۔

بلڈپریشر کنٹرول رکھنے میں معاون

اسکا ایک اور مزید فائدہ یہ ہے کہ بلڈ پریشر کے مریض اگر اسکا استعمال رکھیں تو وہ بآسانی اپنے بلڈ پریشر کے مسئلے پر قابوپا سکتے ہیں۔اسمیں موجود پوٹاشیم خون کی گردش کو بہتر بناکر آپکے قلبی کے سہی طرح کام کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

 توانائی کے فروغ کے لئے

کثرت یادیگر جسمانی سرگرمیوں میں زیادہ دیرتک مشغول رہنے سے جسم کی توانائی کم ہونے لگتی ہے اور تھکاوٹ مھسوس ہوتی ہے ۔ ایسے میں اگر اپنے کھانے میں ساگودانہ شامل کرلیا جائے تو اس سے آپ کی توانائی فوری بحال ہو جائے گی ۔ ناشتے میں بھی اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔ ساگودانہ کا ناشتہ کرکہ آپ پورا دن چست و توانا رہ سکتے ہیں ۔

وزن میں اضافہ کے خواہشمند افراد کے لئے

اگر آپ وزن بڑھانے کے خواہش مند ہیں تو آپ ساگودانہ استعمال کریں۔ ہمارے ہا ں عموماً مائیں اپنے بچوں کے دبلے پن کی وجہ سے پریشان نظر آتی ہیں ۔ساگودانہ کھلانے سے بچے کا وزن بھی بڑھے گا اور یہ سپلیمنٹس سے زیادہ صحت کے لیے مفید ہے۔

پیدائشی نقائص کو روکتاہے

ساگودانہ میں فولک ایسڈ اور وٹامن بی کمپلیکس ہوتاہے جو عام پیدائشی نقا ئص کے خلاف ، حفاظت کرتاہے اور اس سے بچے کی مناسب نشونمامیں مدد ملتی ہے۔اس لیے اسے حاملہ خواتین کو بھی ضرور استعمال کرنا چاہیے ۔

عمل انہضام کو بہتر بناتاہے

یہ آپکے انہضام کے نظام کو بہتر بناتا ہے ۔اس سے معدے کے عام مسائل جیسے قبض، بدہضمی، اپھارہ، گیس وغیرہ کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ سفید ساگودانہ جسم کی چربی بھی کم کرتا ہے ۔

قد میں اضافہ کا سبب

اگر آپ بڑھنے والے بچو ں کوساگودانہ کھلائیں تو اسکے باقاعدہ استعمال سے آپکے بچوں کے قدمیں اضافہ ہوسکتاہے۔بچوں کے لئے یہ بے حد فائدہ منداورقد میں اضافہ کے لیے بہترین غذاہے

خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے اور شہد کے فوائد

benefits of honey in urdu
benefits of honey in urdu

خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے اور شہد کے فوائد

* فرج میں رکھنے سے جمتا نہیں .
* روٹی پہ لگا کر کتے کو ڈالو وہ کھائے گا نہیں.
* اصلی شہد پہ مکھی نہیں بیٹھتی .
* اصلی شھد کو کاٹن کے کپڑے پہ لگا کر بتی بناکر آگ لگا دو وہ دئیے کی طرح جلے گا.
٭ شہد کے چند قطرے جذب کرنے والے کاغذ پر پر ٹپکا دیں، اگر یہ کاغذ قطروں کو جذب کرگیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد خالص نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس جذب کرنے والا کاغذ نہیں ہے تو اس کے لئے آپ سفید کپڑا بھی استعمال کر سکتے، اس کپڑے پر شہد کے چند قطرے گرا کر تھوڑی دیر انہیں دھو لیں اگر تو کپڑے پر دھبے کا نشان رہ جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ شہد خالص نہیں ہے۔
* نمک کی ڈلی شہد میں گھمائیں۔ آپ جتنی دیر چاہے نمک حل کر لیں شہد میں نمک کا ذائقہ نہیں آئے گا۔
* ان بجھے چونے کی ایک چھوٹی سی ڈلی لے کر اسے تھوڑے سے شہد میں ڈبو دیں۔ اگر چونا ویسے ہی پڑا رہے تو شہد خالص ہے۔ اگر اس میں سے چڑ چڑ کی آواز آئے یا دھواں نکلے تو خالص نہیں ہے۔

* شہد کے خالص ہونے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو خالص شہد استعمال کرائیں تو ان کی شوگر نہیں بڑھتی۔

حضرت ابوہریرہؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص مہینے میں صبح تین دن شہد چاٹ لے اس کو اس مہینے میں کوئی بڑی بیماری لاحق نہ ہو گی۔
شہد کی افادیت کا علم آپ کو اس بات سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے شہد، دودھ اور شراب الصالحین کی نہریں بنائی ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّه عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا ’’حضورصلی اللہ علیہ وسلم! میرے بھائی کو دست لگے ہوئے ہیں، کوئی علاج تجویز فرمائیے۔‘‘
آپؐ صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا اسے شہد پلاؤ۔
وہ چلا گیا۔ اگلے روز پھر آیا اور کہنے لگا حضورؐ! صلی اللّه علیہ وسلم میں نے اسے شہد پلایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ آپؐ صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا اسے پھر شہد پلاؤ۔ تین چار دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللّه علیہ وسلم ؐنے فرمایا اللہ کا فرمان سچا ہے، تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّه عنہ ؓ فرماتے ہیں کہ شہد میں ہر جسمانی اور روحانی مرض کے لیے شفا ہے۔ اس لیے اے لوگو! تم قرآن مجید اور شہد دونوں کو تھامے رکھو۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّه عنہ ؓ قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے شہد سے ہر مرض کا علاج کرتے تھے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شہد کے شفا بخش ہونے میں تو بقول قرآن و حدیث کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ گرم مزاجوں کو موافق نہیں۔ اس لیے جب کسی گرم مزاج والے کو شہد استعمال کرائیں تو اس میں ٹھنڈی ادویہ کا اضافہ کر کے اس کی تعدیل کر لیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ شہد ملا پانی استعمال کرنے سے فائدہ بڑھ جاتا ہے۔
شہد بچے کی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک استعمال کرایا جاتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو گھٹی کے طور پر اسے شہد چٹایا جاتا ہے اور جب مریض قریب المرگ ہوتا ہے تب بھی حکیم جان بہ لب مریض کے لیے شہد ہی تجویز کرتا ہے۔ اس لحاظ سے شہد اولین غذا ہے اور آخری بھی …
لندن کے عجائب گھر میں فرعون کی لاش پر شہد کی مکھی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ سکندر اعظم کے زمانے میں لوگ شہد کے علاوہ کسی میٹھی چیز کے ذائقے سے متعارف نہ تھے۔
شہد مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔، دل، دماغ معدہ اور جگر کو طاقت بخشتا نیز قوت مردمی بڑھاتا ہے۔ اگر اس کو دودھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ مادہ منویہ پیدا کرتا ہے۔ مصفی خون ہے اور مولد خون بھی۔ آنکھوں کی بینائی تیز کرنے کے لیے آنکھوں میں لگایا جاتا ہے۔
شہد زخموں کو صاف اور مندمل کرتا ہے۔ ورموں کو پکاتا ہے اور پھوڑتا ہے۔ شہد اور مچلی کی چربی ہم وزن ملانے سے بہترین قسم کا مرہم تیار ہوتا ہے۔ شہد اور کلیجی کو ملا کر مرہم تیار کریں تو پھوڑے پھنسیوں اور زخموں کے لیے بے حد مفید ہے۔
اگرچہ شہد تقریباً ہر مرض کے لیے مفید ہے مگر ذیل میں اس کے چیدہ چیدہ فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔

¤ درد شقیقہ
یہ درد سر کے نصف حصہ میں ہوتا ہے۔ جو جوں سورج طلوع ہوتا ہے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ غروب آفتاب کے وقت درد ختم ہو جاتا ہے۔ مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سر ہتھوڑے سے توڑا جا رہا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس حصہ میں درد ہو اس کے مخالف سمت کے نتھنے میں ایک بوند شہد ڈالیں ان شاء اللہ فوراً افاقہ ہو گا۔

¤ تھکن
دماغی اور جسمانی محنت سے بدن تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک گلاس گرم پانی میں دو بڑے چمچ شہد ملا کر پئیں، جسم ہشاش بشاش ہو جائے گا۔

¤ فالج اور لقوہ
شہد خالص، ادرک کا پانی، پیاز کا پانی ایک یاک پاؤ لے کر بوتل میں ڈالیں۔ بوتل کا چوتھا حصہ خالی رہے۔ تین دن رکھنے کے بعد چھ چھ ماشہ روزانہ صبح استعمال کریں اور چار تولہ تک لے جائیں۔ ان شاء اللہ دونوں امراض سے نجات مل جائے گی۔

¤ یاد داشت
طالب علموں، اساتذہ، وکلا اور علماء کے لیے یہ معجون بہت مفید ہے۔
مال کنگنی مقشر (چھلی ہوئی) ۱۴ تولہ، دار فلفل ۱۰ تولہ، سونٹھ دس تولہ، عاقرقرحا چار تولہ، ان سب چیزوں کو پیس کر گائے کے گھی میں لت پت کریں اور دو گنا شہد ملا کر معجون بنائیں اور ایک تا دو چمچ صبح نہار منہ دودھ سے لیں۔ ان شاء اللہ یاد داشت تیز ہو جائے گی اور بچن کی بھولی ہوئی باتیں بھی یاد آنے لگیں گی۔

¤ کان بجنا
بعض مریضوں کے کانوں کے اندر باجے سے بجتے محسوس ہوتے ہیں اور بھن بھن کی آواز آتی ہے اس کے لیے چھ ماشہ شہد (ایک چھوٹی چمچ) میں چار رتی قلمی شورہ حل کر کے تھوڑے سے گرم پانی میں حل کر کے ۲۔۳ قطرے کانوں میں ٹپکائیں۔ ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔

¤ دانتوں کی مضبوطی
شہد کو سرکے میں ملا کر کلیاں کرنے سے دانت مضبوط ہو جاتے ہیں۔

¤ منہ کے زخم اور زبان پھٹنا
شہد ۷ تولہ، سہاگہ ایک تولہ، گلیسرین چھ ماشہ بوقت ضرورت منہ کے زخموں اور پھٹی ہوئی زبان پر لگائیں۔ چند دنوں میں فائدہ ہو گا۔

¤ عرق النساء
میرے بہت اچھے دوست قاری فصیح الدین عرق النساء کے دردوں کے لیے سملو، چاکسو، سونٹھ، مرچ سیاہ ۵۔۵ تولہ میں ایک کلو شہد خالص ملا کر صبح دوپہر شام دو دو چھوٹے چمچے کھلاتے ہیں۔ چند دنوں میں مرض رفع ہو جاتا ہے۔ مولانا عبدالرشید اصغر کھڈیاں کے نامور عالم ہیں۔ انہیں طب سے بھی شغف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مکئی کے بھٹے سے دانے اتار کر جلائیں اور دو گنا شہد ملا کر صبح دوپہر شام لیں، پرانی سے پرانی ہچکی تین دن میں دور ہو جائے گی۔

¤ امراض قلب
دل کے امراض کے لیے آب ادرک ۲۰ تولہ، شہد ۲۰ تولہ، لہسن ۲۰ تولہ کوٹ کر ان سب کو ملا لیں اور آگ پر جوش دیں۔ صبح دوپہر شام کھانے کے بعد ایک ایک چمچ لیں۔ دل کی اگر تین شریانیں بھی بند ہوں تو اس کے استعمال سے کھل جاتی ہیں۔
دل کے لیے دوسرا مفید نسخہ یہ ہے کہ ادرک کا پانی دس قطرے، لہسن کا پانی ۱۰ قطرے، سفید پیاز کا پانی ۱۰ قطرے، شہد آدھی چمچی ان سب کو ملا کر صبح و شام لیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کافی ہے۔

¤ پیشاب کی رکاوٹ
پیشاب کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے دو چھوٹے چمچے شہد ایک پیالی پانی میں حل کریں اور چار ماشہ سرد چینی شامل کر کے استعمال کرائیں۔ ان شاء اللہ فوراً پیشاب جاری ہو گا۔

¤ شوگر
شوگر کے علاج میں میٹھا منع ہے مگر شہد اگر خالص دستیاب ہو جائے تو صبح دوپہر شام ایک ایک چمچ میں چار چار رتی سلاجیت ملا کر استعمال کریں۔ اس سے شوگر اعتدال پر آ جائے گی۔

¤ موٹاپا
موٹاپا بہت خطرناک مرض ہے۔ اس سے نجات کے لیے چینی، چاول اور چکنائی سے پرہیز کریں اور ۲۵ تولہ شہد، ایک تولہ ان بجھا چونا کھرل کر کے کپڑے میں سے گزاریں اور روزانہ صبح شام چھ چھ ماشہ استعمال کریں۔اس کے مسلسل استعمال سے موٹاپا دور ہو جائے گا۔

¤ دیگر امراض
بولی تیزاب (Uric Acid) دور کرنے کے لیے صبح شام ایک چمچ شہد استعمال کریں۔ بولی تیزاب بدن سے خارج ہو جائے گا۔

¤ اگر کسی شخص کا مادہ تولید کمزور ہو، لذت مباشرت سے محروم ہو تو گرم دودھ میں شہد ملا کر رات کو پینے سے قوت بحال ہو جائے گی اور پشت میں طاقت آ جائے گی۔
سفید پیاز کا پانی ایک پاؤ، شہد خالص تین پاؤ ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں، جب پانی خشک ہو جائے اور صرف شہد باقی رہ جائے تو صبح نہار منہ اور رات سوتے وقت ایک ایک بڑی چمچ شہد استعمال کرے۔ فائدے خود ہی ظاہر ہو جائیں گے۔
جن خواتین کا رحم کمزور ہو اور اس وجہ سے حمل نہ ٹھہرتا ہو وہ اسگندھ ۲ تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب آدھ پاؤ رہ جائے تو ۲ تولہ شہد ایک تولہ گائے کا گھی، گائے کا دودھ پانچ تولہ اور مصری ایک تولہ ملا کر بوقت عصر نوش فرمائیں۔ یہ دوا حیض سے فارغ ہو کر ایک ہفتہ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ حمل قرار پا جائے گا۔

¤ بچوں کی اکثر امراص میں شہد مفید ہے۔ لذیذ ہونے کی وجہ سے بچے اسے شوق سے بھی کھاتے ہیں۔ بچوں کا وزن بڑھانے کے لیے شہد استعمال کرائیں۔

¤ آگ سے جلے ہوئے مریض بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ جلی ہوئی جگہ پر شہد لگائیں تو زخم ہی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ نشان بھی نہیں رہتا۔ ایک دفعہ ایک مزدور تیل کے بھرے ہوئے کڑاہے میں گر پڑا۔ پورا جسم جل گیا۔ پاس ہی شہد کے بھرے ہوئے تین چار کنستر پڑے تھے۔ مالکان نے فورا اس پر شہد کے کستر انڈیل دیے۔ کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آیا۔ ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے کہا اس کے جسم پر نہ زخم کے نشان ہیں نہ جلے کے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ جلے ہوئے مقام پر شہد لگانے سے مکمل فائدہ ہو جاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہد، حلوہ اور گوشت پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللّه علیہ وسلم ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ یہ بہترین غذا ہے۔
اگر کسی چیز کو شہد میں بھگو کر رکھیں تو وہ خراب نہیں ہو گی، خواہ کوئی پھل ہو، سبزی ہو یا گوشت حتیٰ کہ اگر کسی لاش کو خراب ہونے سے بچانا ہو تو اس کو بھی شہد لیپ کر رکھنا مفید ہے۔ اگر کسی زچہ خاتون کو دودھ کم اترتا ہو یا حیض تنگی سے آتا ہو تو صبح شام دو دو چمچ شہد کھانے سے مرض چلی جائے گی۔ شہد کے اتنے فائدے ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے۔

خشک خوبانی کیوں ضرور کھانی چاہیے

خشک خوبانی کیوں ضرور کھانی چاہیے
خشک خوبانی کیوں ضرور کھانی چاہیے

خشک خوبانی کیوں ضرور کھانی چاہیے؟
خشک خوبانی ایسی صحت بخش غذا ہے، جو آپ کو پورے سال دستیاب ہوتی ہے۔ خشک خوبانی کا ایک چھوٹا سا دانہ اپنے اندر صحت کا ایک ایسا خزانہ چھپائے ہوئے ہوتا ہے، جس سے فائدہ صرف وہی انسان اٹھا سکتا ہے، جو اس کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ خشک خوبانی متعدد طبی فوائد کی مالک ہوتی ہے اور اس کا استعمال آپ کو کئی عام امراض سے محفوظ رکھتا ہے:
بہترین نظر
خشک خوبانی میں دو ایسے غذائی اجزاء بھاری مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو بینائی کی حفاظت کرتے ہیں، جو عمر میں اضافے کے ساتھ کمزور ہورہی ہوتی ہے۔ خشک خوبانی کا استعمال موتیے کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
نظامِ ہضم
کھانا کھانے سے قبل خشک خوبانی کا استعمال ہمارے نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے، اس کے علاوہ خشک خوبانی قبض کے حوالے سے مددگار ثابت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ناپسندیدہ مواد کو خارج بھی کرتی ہے۔
صحت مند دل
خشک خوبانی میں فائبر کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، جو جسم میں موجود کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہے، اسی وجہ سے دل کے امراض لاحق ہونے کے خطرات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس دوران خشک خوبانی جسم میں بہترین کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ روزانہ آدھا کپ خشک خوبانی کھانا دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔
خون کی کمی سے بچاؤ
خشک خوبانی آئرن کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے ،جو کہ خون کی کمی خلاف مزاحمت کرنے کے حوالے سے مفید ثابت ہوتا ہے۔ عام طور پر خواتین مخصوص ایام میں خون کی کمی کا شکار رہتی ہیں اس لیے انہیں چاہیے کہ ایسی غذائیں استعمال کریں، جن میں آئرن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہو، اگر آپ خشک خوبانی کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کریں گے، تو یہ ہیموگلوبین کی سطح میں اضافے کا باعث ہوگا۔
کینسر سے بچاؤ
خشک خوبانی میں بھاری مقدار میں پائے جانے والے اینٹی اوکسیڈنٹس کینسر جیسے موذی مرض کے لاحق ہونے کے خطرات کو کم کرتے ہیں، اس کے بیج ( kernels Apricot) کینسر کی افزائش کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کینسر کے مریضوں کو یہ 5 بیج ایک گلاس اورنج جوس کے ساتھ روزانہ صبح ناشتہ میں اس وقت تک کھانے چاہئیں جب تک کہ کینسر کے غیر معمولی خلیوں کا خاتمہ نہیں ہوجاتا-
وزن میں کمی
خشک میں پائی جانے والی فائبر کی بھاری مقدار نہ صرف آپ کے نظامِ ہضم کو بہتر بناتی ہے بلکہ میٹابولک کی کارکردگی کو بھی مزید فعال بناتی ہے اور اسی وجہ سے آپ کا وزن بھی کم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ خشک خوبانی میں کیلوریز بھی بہت کم پائی جاتی ہیں۔
ہڈیاں
سے بھی بھرپور ہوتی ہے اور ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کیلشیم ہماری ہڈیوں کی بہترین صحت کے لیے سب سے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ خشک خوبانی میں پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے، جو کہ ہمارے جسم میں کیلشیم کے تقسیم کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ تمام عوامل ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
بخار
خشک خوبانی میں بخار کی حدت کو کم کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔روزانہ ایک کپ خشک خوبانی کے جوس میں ایک چائے کا چمچ شہد شامل کر کے پئیں- یہ آپ کو پیاس سے بھی آرام دے گی-
جلد
خشک خوبانی کو جلد سے متعلق مسائل مثلاً سورج کی جلن کی وجہ سے ہونے والی خارش اور ایگزیما وغیرہ سے بھی آرام کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ خشک خوبانی کیل مہاسوں اور جلد کے دیگر مسائل کے خلاف بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
مشہور طبی نسخہ
جوانی ، طاقت ، فٹنس ، اور حسن کے لئے
۳ عدد خشک خوبانی اور ۱ عدد چھوہارہ لیں ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں رات کو ایک کپ پانی میں بھگو لیں صبح اس میں ایک چمچ شہد ملا لیں اگر سردی کا موسم ہو تو نیم گرم کرکے پی لیں اگر گرمی کا موسم ہو تو گرم نہ کریں اور ایسے ہی پی لیں
فوائد
جلد بڑھاپا نہی آئے گا.
نظر مضبوط ہو گی اور اعصابی کمزوری ختم ہو جائے گی.
کبھی جسمانی طاقت ختم نہ ہو گی اور نہ جسم میں لرزہ آئے گا.
گھٹنے ، جوڑ ، پٹھے ، دل و دماغ طاقت ور ہو جائیں گے.
کیوں کہ خوبانی میں کوپر Copper اور چھوہارے میں آئرن Iron بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے اور جب ان دونوں کو ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تو ایک طاقت ور ٹانک بن جاتا یے اس کے علاوہ ان دونوں میووں میں بے شمار فوائد ہیں
—————————————————
پوسٹ کو صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کر دیں۔۔۔