Home / Health Care in Urdu

Health Care in Urdu

Health & Fitness for everyone – currently a day’s fitness is one in all the common problems wherever many of us need to lose their weight or would like some diet set up as a result of in step with the analysis we all know that further body fat and strange feeding habit is that the major reason behind illness. Here we tend to area unit providing the most effective health and fitness researched base authentic information which will extremely assist you for obtaining a contented healthy life.
Health care tips and tricks for you.
Pakistani and indian health care tips for everyone.

Sonf Se Bimariyon Ka Ilaaj

Sonf Se Bimariyon Ka Ilaaj
Sonf Se Bimariyon Ka Ilaaj

سونف ایک جانی پہچانی خوراک ہے۔ پیٹ کی تکالیف‘ ہاضمے کی خرابیوں وغیرہ کے لئے اسے بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے اس مقصد کے لئے اکثر لوگ پان میں ڈال کر کھاتے ہیں۔ اس سے فائدے کے لئے ضروری ہے کہ اسے اچھی طرح چبا کر اس کا لعاب اور پیگ نگل لیا جائے۔ سونف منہ کو خوشبودار بناتی ہے۔ انگریزی میں اسے Fennel اور Aniseed بھی کہتے ہیں۔ اس کو عربی میں ’راز‘ یا ’نج‘ اور فارسی میں ’بادیان‘ کہتے ہیں۔ عرق بادیان بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ قرون وسطی میں سونف کے کھانوں کو خوشبودار بنانے اور کیڑے وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لئے بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ خیال تھا کہ اسے شامل کرنے سے باسی کھانے خراب اور مضر ثابت نہیں ہوتے۔
16 ویں صدی کا ماہر جیرارڈ اسے بینائی بڑھانے کے لئے بہت مفید قرار دیتا تھا جب کہ دوسرا ماہر عقاقیر کلپیر سونف کو سانپ یا کھمبی کے زہریلے اثرات دور کرنے کےلئے موثر قرار دیتا تھا۔ سونف (تخم بادیان) جسم کے نرم عضلات کے آرام دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے ہضم کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ سونف خاص طور پر غذا کے روغنی یا چربیلے اجزا ہضم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ چینی معالج لی۔ شین۔ چن نے اپنی کتاب پین لساﺅ میں اسے خاص طور پر بچوں کے نظام ہضم کے لئے مفید لکھا ہے اس کے مطابق سونف پیٹ اور دانت کے درد کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔ یورپی ممالک میں لوگ سونف، بابونہ، سویا، دھنیا اور سنتے کے پوست کے جوشاندے کو ہاضمے کے لئے بہت مفید قرار دیتے ہیں۔ ایک مغربی محقق نے سونف کی پیشاب آور صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ سونف آلات بول، گردے مثانے کا ورم دور کرنے کے لئے بہت موثر ہوتی ہے۔ اسے باقاعدہ استعمال کرتے رہنے سے گردے، مثانے میں پتھری نہیں بنتی اور اگر بن بھی گئی تو اس کے استعمال سے پتھری خارج ہوجاتی ہے۔ سونف دودھ پلانے والی ماﺅں کے لئے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے استعمال سے دودھ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ سونف میں زنانہ ہارمون، ایسٹروجن جیسی خاصیت بھی ہوتی ہے اس لحاظ سے یہ خواتین کے لئے بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔ سن یاس کی تکالیف سے نجات کے لئے اطباء دیگر پیشاب آور دواﺅں کے ساتھ سونف استعمال کرتے ہیں۔ طب یونانی کی مشہور دوا شربت بزوری میں سونف کے بیج اور اس کی جڑ بھی شامل کی جاتی ہے۔
ایک یورپی معالج جان ایولن نے اپنی کتاب ایسی تاریا میں سونف کی ٹہنیوں کے گودے کو موثر، مسکن اور خواب آور قرار دیا ہے۔ طب ہندی کے معالجین کے مطابق سونف کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے اور یہ ہاضمے کے لئے بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔ سونف کے چبانے سے ثقیل کھانے آسانی سے ہضم ہوجاتے ہیں۔ سونف معدے کے علاوہ جگر کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔ سینے اور معدے کی جلن کے لئے بھی اس کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے۔ سونف پیشاب آور اور موثر حیض بھی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم وزن سونف اور گڑ کو پانی میں جوش دے کر نیم گرم پینے سے حیض کی بے قاعدگی دور ہوجاتی ہے۔ دوائی مقاصد کے لئے 5 سے 7 گرام سونف استعمال کرنا چاہیے۔ پیٹ کی ہر قسم کی تکلیف کے لئے پانی کے ساتھ چائے کا ایک چمچ پسی ہوئی سونف کا استعمال بہت موثر ثابت ہوتا ہے۔ عرق بادیان بچوں کےلئے موثر گرائپ واٹر ثابت ہوتا ہے۔ طب ہندی میں ”سونف“ کا استعمال بینائی کے تحفظ اور اضافے کے لئے مفید قرار دیا جاتا ہے۔

کولیسٹرول کے مریضوں کیلئے خوشخبری

کولیسٹرول کے مریضوں کیلئے خوشخبری،دہی استعمال کریں
کولیسٹرول کے مریضوں کیلئے خوشخبری،دہی استعمال کریں

کولیسٹرول کے مریضوں کیلئے خوشخبری،دہی استعمال کریں
دہی کا روزانہ استعمال کو لیسٹرول میں کمی لاتا ہے۔
دل کے دورے کی سب سے بڑی وجہ کولیسٹرول کی زیادتی ہے، جسے دہی کم کرتا ہے۔

دہی میں پائے جانے والا کیلشیم، پروٹین ، وٹامن بی، فولک ایسڈ بڑھتے ہوئے کولیسٹرول کوکم کرنے کیلئے نہایت مفید ہے۔ اگر روزانہ دو پیالے دہی کھایا جائے تواس خطرناک مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

آملہ قدرت کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ

Aamla آملہ قدرت کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ

آملہ قدرت کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ
آملہ کادر خت درمیانہ یا چھوٹے قد کا خوب صورت پیڑ ہے۔ اس کے پتے خزاں میں جھڑ جاتے ہیں۔ چھال تقریباً 1/3انچ موٹی اور نیلگوں رنگ کی ہوتی ہے۔ باہر کی طرف بے قاعدہ سے داغ ہوتے ہیں، جب کہ اندر سے سرخ ہوتی ہے۔ اس کی لکڑی سخت ہوتی ہے۔ کاٹنے کے بعد کچھ عرصے پڑی رہے تو پھٹ جاتی ہے یا خم کھاجاتی ہے، اِسی لیے تعمیراتی کاموں کے قابل نہیں سمجھی جاتی ۔ اس کے پتے ببول کی مانند چھوٹے اور ہلکے سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ پھول سنہری زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور خوشوں میں لگتے ہیں۔ اس کا پھل گول بیر کی شکل کا 1.5سے 2.5سینٹی میٹر پر مشتمل ہوتا ہے، جس کی چھ پھانکیں ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ایک مثلث نما گٹھلی ہوتی ہے جسے توڑنے پر اندر سے تین خانے دکھائی دیتے ہیں ۔ ہر خانے میں دو دو بیج ہوتے ہیں ۔
یہ زمانۂ قدیم سے ہندوستان اور مشرق وسطیٰ میں بہت سی اہم اور قیمتی ادویات کے ضرو ری جزو کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے۔ آیو رویدک کے ماہرین کے مطابق آملہ تمام تیزابی پھلوں میں بہترین ، صحت برقرار رکھنے میں انتہائی کار آمد اور متعدد امراض کا مؤثّر علاج ہے۔اس کے بیجوں میں ایک گاڑھا تیل ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں فاسفائیڈز اور ایک مخصوص تیل بھی ہوتا ہے۔ اس کے پھل، چھال اور پتوں میں ٹینن کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔
فوائد اور استعمال
*قدرت کی طرف سے انسان کے لیے قیمتی تحائف میں سے ایک ہے۔ اسے صحت اور طویل عمر کے لیے بیش بہا نعمت قرار دیا جاتا ہے۔ آیو رویدک معالجین اور حکما اپنی ادویات میں اس کا استعمال خوب تجویزکرتے ہیں اور اسے دل اور دیگر طبی مسائل کے لیے سود مند ٹھہراتے ہیں۔
* اسے مسکن اور قابض اجزا کی وجہ سے بیرونی استعمال کے لیے بھی عمدہ سمجھا جاتا ہے، اس کا استعمال پیشاب کی مقدار بڑھاتا ہے۔ اس کا کچا پھل معتدل قسم کا مسہل ہے۔ اس کا تازہ رَس سرد، تازگی بخش ، پیشاب آور، ملین اور مقوی دل ہوتا ہے۔
*اگر اس کے پھل پر چاقو سے شگاف لگادیے جائیں تو تھوڑی دیر میں جورَس پھوٹ کر نکلے گا، اسے کارجی طور پر آنکھ کے اوپر لگانے سے آنکھ کی سوزش رفع ہوتی ہے۔ آملہ کے پھول بھی سردمزاج، فرحت بخش اور ملین ہوتے ہیں۔
*اس کی جڑ اور چھال رطوبتیں کم کرنے اور خون روکنے میں معاون ہیں ۔ تازہ آملہ کے رَس کا ایک کھانے کا چمچہ اور شہد متعدد بیماریوں کا شافی علاج ہے۔ اس کا باقاعدہ روزانہ صبح کے وقت استعمال چند دن میں جسم میں چستی اور توانائی بھر دیتا ہے۔ اگر تازہ آملہ دست یاب نہ ہو تو خشک پھل کا سفوف شہد میں ملا کر استعمال کرنا مفید رہتا ہے۔
*سانس کی بیماریوں میں آملہ بہترین علاج ہے۔ پھیپھڑوں کی تپِ دق، دمہ اور برونکا ئٹس میں خاص طور پر اس کا استعمال اہم ہے۔
*وٹامن سی کی بہتات رکھنے کی وجہ سے یہ ذیابیطس پر قابو پانے میں بہت موثر ہے۔ اس کارَس ایک کھانے کا چمچہ ایک کپ کڑوے پیٹھے کا تازہ رَس ملاکر دو ماہ تک روزانہ لیا جائے تو لبلبے کو تحریک ملتی ہے اور انسولین کی پیداوار بڑھ جاتی ہے، چناں چہ خون میں شوگر کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ یہ نسخہ استعمال کرتے ہوئے غذا کے پرہیز پر خصوصی توجہ دیں۔ اس کا استعمال شوگر کے مریضوں میں آ نکھوں کی پیچیدگیاں بھی روکتاہے۔سفوف آملہ، جامن اور کڑوا پیٹھا( ہم وزن) ذیابیطس کا عمدہ علاج ہے۔ اس مرکب کا ایک یا دو چمچہ روزانہ استعمال ذیابیطس کے مرض کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
*شہد کے ساتھ اس کا رَس استعمال کرنے سے بینائی محفوظ رہتی ہے۔ یہ آشوب چشم اور سبز موتیا کے علاج کے لیے بھی مفید ہے۔ بصری تناؤ کے لیے ایک کپ آملہ کا رَس شہد کے ساتھ دن میں دوبار پینا انتہائی کار آمد رہتا ہے۔
*خشک آملے کو سفوف ایک چائے کا چمچہ دو چائے کے چمچے شکرکے ساتھ ایک ماہ تک روزانہ استعمال کرنا گٹھیا اور جوڑوں کے درد میں مؤثّر علاج ثابت ہوتاہے۔
*اس میں قوت و توانائی بحال کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے، کیوں کہ اس کے اجزا عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہونے والی شکست و ریخت کو روکتے ہیں اور بڑی عمر میں بھی توانائی برقرار رکھتے ہیں
جن بچوں کو قبض کی شکایت ہو ان کے لیے نہار منہ آملہ کا مربہ بہترین علاج ہے
آملہ کا مربہ وقت سے پہلے سفید ہو جانے والے بالوں کو کالا کرنے کے لیے انتہائی موثر اس کے سا تھ ساتھ نظر کی کمزوری دور کرنے میں مددگار
پھیپھڑوں کے امراض آملے کے استعمال سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

امراض قلب

زور زور سے دل دھڑکنے کی حالت اور کمزور دل حضرات کیلئے آملے کا مربہ مفید ہے۔

٭ زیادہ پیاس لگنے یا قے آنے کی صورت میں آملہ چوستے رہیے۔

٭ آملے کا سفوف منجن کے طور پر انگلی سے دانتوں پر ملیے‘ مسوڑھوں سے خون آنا بند‘ دانتوں کا میل صاف اور ہلتے اور دکھتے دانتوں کو آرام ملے گا۔

٭ آملے کا باریک سفوف اگر چوٹ کے مقام پر چھڑک کر باندھ دیا جائے تو خون بہنا بند ہوجائے گا اور زخم بھی جلد ٹھیک ہوگا۔ ٭ تازہ آملے کا رس ایک چمچ اور ایک چمچ شہد ملا کر جو آمیزہ بنے وہ انتہائی عمدہ اور قیمتی دوا ہے۔ یہ متعدد بیماریوں کا شافی علاج ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخشتی ہے۔ ایک ہفتے تک روزانہ صبح سویرے اس آمیزے کا استعمال جسم کو قوت و توانائی سے بھردیتا ہے۔ شدید کمزوری کی صورت میں اسے دو ہفتے استعمال کیجئے۔ اگر تازہ پھل دستیاب نہ ہو تو خشک سفوف کو بھی شہد میں ملا کر معجون بنالیجئے۔
یہ آمیزہ سانس کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔ خاص طور پر پھیپھڑوں کی تپ دق‘ دمے اور کھانسی میں مؤثر ہے۔
٭ آملہ، تخم جامن اور کریلوں کا ہم وزن سفوف ذیابیطس کی عمدہ دوا ہے۔ اس سفوف کی ایک چھوٹی چمچی دن میں ایک یا دو بار لینا مرض بڑھنے سے روکتا ہے۔ ٭ دس گرام آملہ پانی میں کوٹ کر چھان لیں۔ بعدازاں اس میں مصری یا شکر ملا کر پینے سے نکسیر کا خون بند ہوجاتا ہے۔ اسی طریقے سے بواسیر کے خون کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔ ٭ جوڑوں کے درد اور سوزش میں بھی آملہ مفید ہے۔ خشک آملے کا سفوف ایک چمچ شکر دو چمچ ملا کرایک ماہ تک دن میں دو مرتبہ لینا اس مرض کا مؤثر علاج ہے۔
بڑھاپا:آملے میں نئی قوت اور توانائی مہیا کرنے کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ اس میں ایک ایسا عنصر پایا جاتا ہے جو نہ صرف بڑھاپے کے آثار ختم کرتا ہے بلکہ طاقت بھی برقرار رکھتا ہے۔ یہ انسان کی جسمانی قوت مدافعت بڑھاتا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ دل کو قوت دیتا‘ بالوں کو مضبوط بناتا اور جسم کے مختلف غدودوں کو فعال کرتا ہے۔ ایک سنیاسی کی مثال ہے کہ اس نے ستر برس کی عمر میں آملے کے استعمال سے خود کو پھر سے جوان بنالیا تھا۔
بال: گھنے بالوں اور آملے کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بالوں کو چمکدار بنانے کیلئے دیسی نسخوں اور ٹوٹکوں میں آملے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تازہ آملہ ٹکڑوں میں کاٹ کر سائے میں خشک کرلیں۔ پھر انہیں ناریل کے تیل میں اتنا پکائیے کہ تیل کی شکل جلے ہوئے برادے جیسی ہوجائے۔ یہ سیاہی مائل تیل بالوں کو سفید ہونے سے بچانے کیلئے عمدہ دوا ہے۔٭ تازہ یا خشک آملے کے ٹکڑے رات کو پانی میں بھگودیں۔ اگلے دن اس پانی سے سر کے بال دھوئیں۔ یہ ان کی نشوونما کیلئے اچھی غذا ہے۔ یاد رہے کہ صرف اسی پانی سے بال دھوئیے کسی قسم کا شیمپو استعمال نہ کریں۔
٭ آملے کا سفوف پانی میں ملا کر گاڑھا سا لیپ بنالیجئے۔ پھر اسے بالوں کی جڑوں میں لگا کر کچھ دیر بعد سر دھو لیں۔ سفوف اور پانی کا مرکب اتنا گاڑھا ہونا چاہیے کہ تمام بالوں کی جڑوں میں لیپ ہوسکے۔