Home / Urdu articles / سیاسی بحران کی وجہ نہ تو ایران ہے اور نہ ہی الجزیرہ

سیاسی بحران کی وجہ نہ تو ایران ہے اور نہ ہی الجزیرہ

الجزیرہ
الجزیرہ

قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا ہے کہ حالیہ سفارتی بحران کی اصل وجوہات کے بارے میں علم نہیں ہے لیکن اتنا معلوم ہے کہ بحران کی وجہ ‘نہ تو ایران ہے اور نہ ہی الجزیرہ’۔
پیرس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ قطر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور خلیج کی سکیورٹی کے حوالے سے جو بات چیت کرنی ہے اس کے لیے تیار ہے۔
’قطر کے شہریوں کو مسجد الحرام میں داخل نہیں ہونے دیا گیا‘
’قطر کو جب تک ضرورت ہے خوراک بھیجیں گے‘
ہم نے کسی سے بھی ثالثی کرنے کو نہیں کہا: سعودی عرب
’قطر اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گا‘
تاہم انھوں نے کہا ‘قطر غیر ملکی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا۔’
قطر کے وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس میں مزید کہا ‘خارجہ امور سے تعلق رکھنے والی باتیں کے بارے میں کسی کو بات کرنے کا حق نہیں ہے۔’انھوں نے کہا کہ قطر پر لگائے جانے والے الزامات پر بات چیت واضح بنیادی اصولوں پر ہونی چاہیے۔

الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک
الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک

وزیر خارجہ نے کہا کہ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک قطر کا اندرونی معاملہ ہے اور قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے اور اس پر پابندیاں لگانے والے ممالک کے ساتھ اس میڈیا نیٹ ورک کی قسمت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔
‘قطر کے اندرونی معاملات کے حوالے سے فیصلے قطر کی خود مختاری کے فیصلے ہیں اور کسی کو ان میں دخل اندازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔’
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قطر پر فضائی پابندیاں صرف ان ایئر لائنز کمپنیوں پر ہیں جو قطر کی ہیں یا وہاں رجسٹر ہوئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے علاوہ سعودی عرب اور بحرین نے بھی فضائی پابندیوں کے حوالے سے بیان میں یہی کہا ہے کہ فضائی پابندیاں صرف ان ایئر لائنز کمپنیوں پر ہیں جو قطر کی ہیں یا وہاں رجسٹر ہوئی ہیں۔
تینوں ملکوں کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات میں کہا گیا ہے کہ ‘فضائی پابندی قطر کی ایوی ایشن کمپنیوں اور ان جہازوں پر ہے جو قطر میں رجسٹر ہیں۔’
دریں اثنا مراکش نے خوراک سے بھرا ایک جہاز قطر کے لیے روانہ کیا ہے

 خوراک بھیجنے کا تعلق قطر اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی بحران

مراکش کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خوراک بھیجنے کا تعلق قطر اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی بحران سے نہیں بلکہ یہ محض قطری عوام کے لیے ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، یمن اور مصر نے قطر پر انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزام لگانے کے بعد اس سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

ان ممالک نے قطر پر سفری پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ قطر نے تمام طرح کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان پابندیوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *