Thursday , November 15 2018
Home / Health Care in Urdu (page 2)

Health Care in Urdu

Health & Fitness for everyone – currently a day’s fitness is one in all the common problems wherever many of us need to lose their weight or would like some diet set up as a result of in step with the analysis we all know that further body fat and strange feeding habit is that the major reason behind illness. Here we tend to area unit providing the most effective health and fitness researched base authentic information which will extremely assist you for obtaining a contented healthy life.
Health care tips and tricks for you.
Pakistani and indian health care tips for everyone.

آملہ قدرت کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ

Aamla آملہ قدرت کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ

آملہ قدرت کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ
آملہ کادر خت درمیانہ یا چھوٹے قد کا خوب صورت پیڑ ہے۔ اس کے پتے خزاں میں جھڑ جاتے ہیں۔ چھال تقریباً 1/3انچ موٹی اور نیلگوں رنگ کی ہوتی ہے۔ باہر کی طرف بے قاعدہ سے داغ ہوتے ہیں، جب کہ اندر سے سرخ ہوتی ہے۔ اس کی لکڑی سخت ہوتی ہے۔ کاٹنے کے بعد کچھ عرصے پڑی رہے تو پھٹ جاتی ہے یا خم کھاجاتی ہے، اِسی لیے تعمیراتی کاموں کے قابل نہیں سمجھی جاتی ۔ اس کے پتے ببول کی مانند چھوٹے اور ہلکے سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ پھول سنہری زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور خوشوں میں لگتے ہیں۔ اس کا پھل گول بیر کی شکل کا 1.5سے 2.5سینٹی میٹر پر مشتمل ہوتا ہے، جس کی چھ پھانکیں ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ایک مثلث نما گٹھلی ہوتی ہے جسے توڑنے پر اندر سے تین خانے دکھائی دیتے ہیں ۔ ہر خانے میں دو دو بیج ہوتے ہیں ۔
یہ زمانۂ قدیم سے ہندوستان اور مشرق وسطیٰ میں بہت سی اہم اور قیمتی ادویات کے ضرو ری جزو کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے۔ آیو رویدک کے ماہرین کے مطابق آملہ تمام تیزابی پھلوں میں بہترین ، صحت برقرار رکھنے میں انتہائی کار آمد اور متعدد امراض کا مؤثّر علاج ہے۔اس کے بیجوں میں ایک گاڑھا تیل ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں فاسفائیڈز اور ایک مخصوص تیل بھی ہوتا ہے۔ اس کے پھل، چھال اور پتوں میں ٹینن کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔
فوائد اور استعمال
*قدرت کی طرف سے انسان کے لیے قیمتی تحائف میں سے ایک ہے۔ اسے صحت اور طویل عمر کے لیے بیش بہا نعمت قرار دیا جاتا ہے۔ آیو رویدک معالجین اور حکما اپنی ادویات میں اس کا استعمال خوب تجویزکرتے ہیں اور اسے دل اور دیگر طبی مسائل کے لیے سود مند ٹھہراتے ہیں۔
* اسے مسکن اور قابض اجزا کی وجہ سے بیرونی استعمال کے لیے بھی عمدہ سمجھا جاتا ہے، اس کا استعمال پیشاب کی مقدار بڑھاتا ہے۔ اس کا کچا پھل معتدل قسم کا مسہل ہے۔ اس کا تازہ رَس سرد، تازگی بخش ، پیشاب آور، ملین اور مقوی دل ہوتا ہے۔
*اگر اس کے پھل پر چاقو سے شگاف لگادیے جائیں تو تھوڑی دیر میں جورَس پھوٹ کر نکلے گا، اسے کارجی طور پر آنکھ کے اوپر لگانے سے آنکھ کی سوزش رفع ہوتی ہے۔ آملہ کے پھول بھی سردمزاج، فرحت بخش اور ملین ہوتے ہیں۔
*اس کی جڑ اور چھال رطوبتیں کم کرنے اور خون روکنے میں معاون ہیں ۔ تازہ آملہ کے رَس کا ایک کھانے کا چمچہ اور شہد متعدد بیماریوں کا شافی علاج ہے۔ اس کا باقاعدہ روزانہ صبح کے وقت استعمال چند دن میں جسم میں چستی اور توانائی بھر دیتا ہے۔ اگر تازہ آملہ دست یاب نہ ہو تو خشک پھل کا سفوف شہد میں ملا کر استعمال کرنا مفید رہتا ہے۔
*سانس کی بیماریوں میں آملہ بہترین علاج ہے۔ پھیپھڑوں کی تپِ دق، دمہ اور برونکا ئٹس میں خاص طور پر اس کا استعمال اہم ہے۔
*وٹامن سی کی بہتات رکھنے کی وجہ سے یہ ذیابیطس پر قابو پانے میں بہت موثر ہے۔ اس کارَس ایک کھانے کا چمچہ ایک کپ کڑوے پیٹھے کا تازہ رَس ملاکر دو ماہ تک روزانہ لیا جائے تو لبلبے کو تحریک ملتی ہے اور انسولین کی پیداوار بڑھ جاتی ہے، چناں چہ خون میں شوگر کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ یہ نسخہ استعمال کرتے ہوئے غذا کے پرہیز پر خصوصی توجہ دیں۔ اس کا استعمال شوگر کے مریضوں میں آ نکھوں کی پیچیدگیاں بھی روکتاہے۔سفوف آملہ، جامن اور کڑوا پیٹھا( ہم وزن) ذیابیطس کا عمدہ علاج ہے۔ اس مرکب کا ایک یا دو چمچہ روزانہ استعمال ذیابیطس کے مرض کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
*شہد کے ساتھ اس کا رَس استعمال کرنے سے بینائی محفوظ رہتی ہے۔ یہ آشوب چشم اور سبز موتیا کے علاج کے لیے بھی مفید ہے۔ بصری تناؤ کے لیے ایک کپ آملہ کا رَس شہد کے ساتھ دن میں دوبار پینا انتہائی کار آمد رہتا ہے۔
*خشک آملے کو سفوف ایک چائے کا چمچہ دو چائے کے چمچے شکرکے ساتھ ایک ماہ تک روزانہ استعمال کرنا گٹھیا اور جوڑوں کے درد میں مؤثّر علاج ثابت ہوتاہے۔
*اس میں قوت و توانائی بحال کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے، کیوں کہ اس کے اجزا عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہونے والی شکست و ریخت کو روکتے ہیں اور بڑی عمر میں بھی توانائی برقرار رکھتے ہیں
جن بچوں کو قبض کی شکایت ہو ان کے لیے نہار منہ آملہ کا مربہ بہترین علاج ہے
آملہ کا مربہ وقت سے پہلے سفید ہو جانے والے بالوں کو کالا کرنے کے لیے انتہائی موثر اس کے سا تھ ساتھ نظر کی کمزوری دور کرنے میں مددگار
پھیپھڑوں کے امراض آملے کے استعمال سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

امراض قلب

زور زور سے دل دھڑکنے کی حالت اور کمزور دل حضرات کیلئے آملے کا مربہ مفید ہے۔

٭ زیادہ پیاس لگنے یا قے آنے کی صورت میں آملہ چوستے رہیے۔

٭ آملے کا سفوف منجن کے طور پر انگلی سے دانتوں پر ملیے‘ مسوڑھوں سے خون آنا بند‘ دانتوں کا میل صاف اور ہلتے اور دکھتے دانتوں کو آرام ملے گا۔

٭ آملے کا باریک سفوف اگر چوٹ کے مقام پر چھڑک کر باندھ دیا جائے تو خون بہنا بند ہوجائے گا اور زخم بھی جلد ٹھیک ہوگا۔ ٭ تازہ آملے کا رس ایک چمچ اور ایک چمچ شہد ملا کر جو آمیزہ بنے وہ انتہائی عمدہ اور قیمتی دوا ہے۔ یہ متعدد بیماریوں کا شافی علاج ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخشتی ہے۔ ایک ہفتے تک روزانہ صبح سویرے اس آمیزے کا استعمال جسم کو قوت و توانائی سے بھردیتا ہے۔ شدید کمزوری کی صورت میں اسے دو ہفتے استعمال کیجئے۔ اگر تازہ پھل دستیاب نہ ہو تو خشک سفوف کو بھی شہد میں ملا کر معجون بنالیجئے۔
یہ آمیزہ سانس کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔ خاص طور پر پھیپھڑوں کی تپ دق‘ دمے اور کھانسی میں مؤثر ہے۔
٭ آملہ، تخم جامن اور کریلوں کا ہم وزن سفوف ذیابیطس کی عمدہ دوا ہے۔ اس سفوف کی ایک چھوٹی چمچی دن میں ایک یا دو بار لینا مرض بڑھنے سے روکتا ہے۔ ٭ دس گرام آملہ پانی میں کوٹ کر چھان لیں۔ بعدازاں اس میں مصری یا شکر ملا کر پینے سے نکسیر کا خون بند ہوجاتا ہے۔ اسی طریقے سے بواسیر کے خون کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔ ٭ جوڑوں کے درد اور سوزش میں بھی آملہ مفید ہے۔ خشک آملے کا سفوف ایک چمچ شکر دو چمچ ملا کرایک ماہ تک دن میں دو مرتبہ لینا اس مرض کا مؤثر علاج ہے۔
بڑھاپا:آملے میں نئی قوت اور توانائی مہیا کرنے کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ اس میں ایک ایسا عنصر پایا جاتا ہے جو نہ صرف بڑھاپے کے آثار ختم کرتا ہے بلکہ طاقت بھی برقرار رکھتا ہے۔ یہ انسان کی جسمانی قوت مدافعت بڑھاتا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ دل کو قوت دیتا‘ بالوں کو مضبوط بناتا اور جسم کے مختلف غدودوں کو فعال کرتا ہے۔ ایک سنیاسی کی مثال ہے کہ اس نے ستر برس کی عمر میں آملے کے استعمال سے خود کو پھر سے جوان بنالیا تھا۔
بال: گھنے بالوں اور آملے کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بالوں کو چمکدار بنانے کیلئے دیسی نسخوں اور ٹوٹکوں میں آملے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تازہ آملہ ٹکڑوں میں کاٹ کر سائے میں خشک کرلیں۔ پھر انہیں ناریل کے تیل میں اتنا پکائیے کہ تیل کی شکل جلے ہوئے برادے جیسی ہوجائے۔ یہ سیاہی مائل تیل بالوں کو سفید ہونے سے بچانے کیلئے عمدہ دوا ہے۔٭ تازہ یا خشک آملے کے ٹکڑے رات کو پانی میں بھگودیں۔ اگلے دن اس پانی سے سر کے بال دھوئیں۔ یہ ان کی نشوونما کیلئے اچھی غذا ہے۔ یاد رہے کہ صرف اسی پانی سے بال دھوئیے کسی قسم کا شیمپو استعمال نہ کریں۔
٭ آملے کا سفوف پانی میں ملا کر گاڑھا سا لیپ بنالیجئے۔ پھر اسے بالوں کی جڑوں میں لگا کر کچھ دیر بعد سر دھو لیں۔ سفوف اور پانی کا مرکب اتنا گاڑھا ہونا چاہیے کہ تمام بالوں کی جڑوں میں لیپ ہوسکے۔

Health Benefits of Tapioca – Sabudana

Health Benefits of Tapioca - Sabudana
Health Benefits of Tapioca – Sabudana

ساگودانےسے سب واقف ھوں گے مگر یہ حاصل کیسے ھوتا ھے یہ بہت ھی کم لوگ جانتے ھیں
آپ لیے موتیوں جیسی غذا کے بارے معلومات چن کر لایا ھوں

ساگو دانہ ،”ساگو” نامی درخت کا پھل کہلاتا ہے جسے ملاکو کے جزیروں میں بویا گیا ۔اس کے علاوہ ساگو دانہ New Guinea میں ” ساگو پام” کے درختوں سے حاصل کیا گیا۔یہ موتیوں کی طرح دانے ہوتے ہیں جنہیں دودھ یا پانی میں پکایا جاتا ہے۔ساگو دانہ میں 94 فی صد نشاستہ ،0.2 گرام پروٹین ،0.5 گرام غذائی ریشہ ، 10 ملی گرام کیلسیم اور 1.2ملی گرام لوہا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔اسی لیے زود ہضم اور بھرپور غذائیت کی حامل ہونے کے سبب ساگو دانہ بچوں اور بیماروں کے لیے بہترین غذا مانی جاتی ہے۔ بیماروں کے علاوہ ساگو دانہ کی کھیر انتہائی مقوّی اور مزے دار میٹھا ہے اور ساگو دانے کو نمکین پانی میں اُبال کر ،اس آمیزہ کو خشک کیا جاتا ہے اور پھر گرم تیل میں تَل کر ساگو دانے کی ” پھُول بڑیاں” تیّار کی جاتی ہیں جو چائے کے ساتھ ایسا مزا دیتی ہیں کہ آپ بے اختیار واہ واہ کہہ اُٹھیں گے۔
ساگودانہ سے ہم سب ہی بخوبی واقف ہیں ہر گھر میں استعمال ہونے والا ساگودانہ اپنے اندر بے شمار فوائد سموئے ہوئے ہے ۔یہ سفید اور گول چھوٹے چھوٹے موتیوں جیسے دانے ہوتے ہیں جنہیں بعض لوگ سابو دانہ بھی کہتے ہیں ۔ساگودانہ بہت ہلکی غذاہے، عموماً لوگوں میں اسے پیٹ کی خرابی، بیماری یا بچوں کی خوراک کے حوالے سے جانا جاتاہے البتہ بچوں ، بیمار افراداور بزرگوں کے علاوہ اسے صحت مند لوگ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔یہ نہایت سستااور آسان طریقہ ہے جسکے ذریعے آپ اپنی توانائی بحال کرکے صحت مند زندگی کی طرف گامزن ہوسکتے ہیں ۔یہ بہت ہلکی اور زود ہضم غذاہے۔

ساگودانہ کے استعمال کے طریقے

*اسے کھیر، پڈنگ، سوپ ، کیک ، پین کیک، بریڈ، کھچڑی او راسکے علاوہ بائنڈنگ یعنی کسی بھی چیز کو گاڑھا کرنے کے لئے استعمال کیاجاتاہے :
*خالی دودھ یا پانی میں پکا کر بھی استعمال کیاجاسکتاہے اورگاڑھاہونے پر حسب ضرورت چینی ملا کر استعمال کیا جاسکتاہے۔
*جو بچے اسے کھانا پسند نہ کریں تو آپ انکے لئے ساگو دانہ کو دودھ میں پکا کرپھر چھان کرانھیں وہ دودھ پلا سکتے ہیں۔
*اسے آلو میں ملا کراس کے مزیدار کٹلس بھی بنائے جا سکتے ہیں۔
*اس کی کھیر میں بالائی،کھویا،پستہ،بادام ملا کر مٹی کے پیالوں میں جماکر کھائیں چاہیں تو عرق گلاب یا کیوڑہ شامل کر لیں۔

ساگودانہ کے فوائد

ساگودانہ میں چھپے ہیں صحت کے وہ فوائد جو آپکے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

پٹھوں کی افزائش میں مدد

اسے آپ اپنی روز مرہ کی غذا میں شامل کرسکتے ہیں۔ساگودانہ آپکو ایک صحت مند پروٹین فراہم کرتاہے ساگودانہ کا استعمال پٹھوں کی مضبوطی کے لیے کیا جاتا ہے۔

ہڈیوں کی نشوونماکو بہتر بناتاہے

اسمیں موجود کیلشیئم، آئرن اور فائبر،ہڈیوں کی صحت اور لچک کو بہتر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اس کا استعما ل آپکو پورے دن میں ہونے والی تھکاوٹ سے نجات دلا سکتاہے۔ اس کے علاوہ اسے بچوں کی ابتدائی غذاؤں مین شامل کیا جاتا ہے تاکہ ان کی ہڈیوں میں جان آئے اور قد بڑھے۔

بلڈپریشر کنٹرول رکھنے میں معاون

اسکا ایک اور مزید فائدہ یہ ہے کہ بلڈ پریشر کے مریض اگر اسکا استعمال رکھیں تو وہ بآسانی اپنے بلڈ پریشر کے مسئلے پر قابوپا سکتے ہیں۔اسمیں موجود پوٹاشیم خون کی گردش کو بہتر بناکر آپکے قلبی کے سہی طرح کام کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

 توانائی کے فروغ کے لئے

کثرت یادیگر جسمانی سرگرمیوں میں زیادہ دیرتک مشغول رہنے سے جسم کی توانائی کم ہونے لگتی ہے اور تھکاوٹ مھسوس ہوتی ہے ۔ ایسے میں اگر اپنے کھانے میں ساگودانہ شامل کرلیا جائے تو اس سے آپ کی توانائی فوری بحال ہو جائے گی ۔ ناشتے میں بھی اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔ ساگودانہ کا ناشتہ کرکہ آپ پورا دن چست و توانا رہ سکتے ہیں ۔

وزن میں اضافہ کے خواہشمند افراد کے لئے

اگر آپ وزن بڑھانے کے خواہش مند ہیں تو آپ ساگودانہ استعمال کریں۔ ہمارے ہا ں عموماً مائیں اپنے بچوں کے دبلے پن کی وجہ سے پریشان نظر آتی ہیں ۔ساگودانہ کھلانے سے بچے کا وزن بھی بڑھے گا اور یہ سپلیمنٹس سے زیادہ صحت کے لیے مفید ہے۔

پیدائشی نقائص کو روکتاہے

ساگودانہ میں فولک ایسڈ اور وٹامن بی کمپلیکس ہوتاہے جو عام پیدائشی نقا ئص کے خلاف ، حفاظت کرتاہے اور اس سے بچے کی مناسب نشونمامیں مدد ملتی ہے۔اس لیے اسے حاملہ خواتین کو بھی ضرور استعمال کرنا چاہیے ۔

عمل انہضام کو بہتر بناتاہے

یہ آپکے انہضام کے نظام کو بہتر بناتا ہے ۔اس سے معدے کے عام مسائل جیسے قبض، بدہضمی، اپھارہ، گیس وغیرہ کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ سفید ساگودانہ جسم کی چربی بھی کم کرتا ہے ۔

قد میں اضافہ کا سبب

اگر آپ بڑھنے والے بچو ں کوساگودانہ کھلائیں تو اسکے باقاعدہ استعمال سے آپکے بچوں کے قدمیں اضافہ ہوسکتاہے۔بچوں کے لئے یہ بے حد فائدہ منداورقد میں اضافہ کے لیے بہترین غذاہے

خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے اور شہد کے فوائد

benefits of honey in urdu
benefits of honey in urdu

خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے اور شہد کے فوائد

* فرج میں رکھنے سے جمتا نہیں .
* روٹی پہ لگا کر کتے کو ڈالو وہ کھائے گا نہیں.
* اصلی شہد پہ مکھی نہیں بیٹھتی .
* اصلی شھد کو کاٹن کے کپڑے پہ لگا کر بتی بناکر آگ لگا دو وہ دئیے کی طرح جلے گا.
٭ شہد کے چند قطرے جذب کرنے والے کاغذ پر پر ٹپکا دیں، اگر یہ کاغذ قطروں کو جذب کرگیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد خالص نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس جذب کرنے والا کاغذ نہیں ہے تو اس کے لئے آپ سفید کپڑا بھی استعمال کر سکتے، اس کپڑے پر شہد کے چند قطرے گرا کر تھوڑی دیر انہیں دھو لیں اگر تو کپڑے پر دھبے کا نشان رہ جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ شہد خالص نہیں ہے۔
* نمک کی ڈلی شہد میں گھمائیں۔ آپ جتنی دیر چاہے نمک حل کر لیں شہد میں نمک کا ذائقہ نہیں آئے گا۔
* ان بجھے چونے کی ایک چھوٹی سی ڈلی لے کر اسے تھوڑے سے شہد میں ڈبو دیں۔ اگر چونا ویسے ہی پڑا رہے تو شہد خالص ہے۔ اگر اس میں سے چڑ چڑ کی آواز آئے یا دھواں نکلے تو خالص نہیں ہے۔

* شہد کے خالص ہونے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو خالص شہد استعمال کرائیں تو ان کی شوگر نہیں بڑھتی۔

حضرت ابوہریرہؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص مہینے میں صبح تین دن شہد چاٹ لے اس کو اس مہینے میں کوئی بڑی بیماری لاحق نہ ہو گی۔
شہد کی افادیت کا علم آپ کو اس بات سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے شہد، دودھ اور شراب الصالحین کی نہریں بنائی ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّه عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا ’’حضورصلی اللہ علیہ وسلم! میرے بھائی کو دست لگے ہوئے ہیں، کوئی علاج تجویز فرمائیے۔‘‘
آپؐ صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا اسے شہد پلاؤ۔
وہ چلا گیا۔ اگلے روز پھر آیا اور کہنے لگا حضورؐ! صلی اللّه علیہ وسلم میں نے اسے شہد پلایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ آپؐ صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا اسے پھر شہد پلاؤ۔ تین چار دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللّه علیہ وسلم ؐنے فرمایا اللہ کا فرمان سچا ہے، تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّه عنہ ؓ فرماتے ہیں کہ شہد میں ہر جسمانی اور روحانی مرض کے لیے شفا ہے۔ اس لیے اے لوگو! تم قرآن مجید اور شہد دونوں کو تھامے رکھو۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّه عنہ ؓ قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے شہد سے ہر مرض کا علاج کرتے تھے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شہد کے شفا بخش ہونے میں تو بقول قرآن و حدیث کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ گرم مزاجوں کو موافق نہیں۔ اس لیے جب کسی گرم مزاج والے کو شہد استعمال کرائیں تو اس میں ٹھنڈی ادویہ کا اضافہ کر کے اس کی تعدیل کر لیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ شہد ملا پانی استعمال کرنے سے فائدہ بڑھ جاتا ہے۔
شہد بچے کی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک استعمال کرایا جاتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو گھٹی کے طور پر اسے شہد چٹایا جاتا ہے اور جب مریض قریب المرگ ہوتا ہے تب بھی حکیم جان بہ لب مریض کے لیے شہد ہی تجویز کرتا ہے۔ اس لحاظ سے شہد اولین غذا ہے اور آخری بھی …
لندن کے عجائب گھر میں فرعون کی لاش پر شہد کی مکھی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ سکندر اعظم کے زمانے میں لوگ شہد کے علاوہ کسی میٹھی چیز کے ذائقے سے متعارف نہ تھے۔
شہد مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔، دل، دماغ معدہ اور جگر کو طاقت بخشتا نیز قوت مردمی بڑھاتا ہے۔ اگر اس کو دودھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ مادہ منویہ پیدا کرتا ہے۔ مصفی خون ہے اور مولد خون بھی۔ آنکھوں کی بینائی تیز کرنے کے لیے آنکھوں میں لگایا جاتا ہے۔
شہد زخموں کو صاف اور مندمل کرتا ہے۔ ورموں کو پکاتا ہے اور پھوڑتا ہے۔ شہد اور مچلی کی چربی ہم وزن ملانے سے بہترین قسم کا مرہم تیار ہوتا ہے۔ شہد اور کلیجی کو ملا کر مرہم تیار کریں تو پھوڑے پھنسیوں اور زخموں کے لیے بے حد مفید ہے۔
اگرچہ شہد تقریباً ہر مرض کے لیے مفید ہے مگر ذیل میں اس کے چیدہ چیدہ فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔

¤ درد شقیقہ
یہ درد سر کے نصف حصہ میں ہوتا ہے۔ جو جوں سورج طلوع ہوتا ہے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ غروب آفتاب کے وقت درد ختم ہو جاتا ہے۔ مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سر ہتھوڑے سے توڑا جا رہا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس حصہ میں درد ہو اس کے مخالف سمت کے نتھنے میں ایک بوند شہد ڈالیں ان شاء اللہ فوراً افاقہ ہو گا۔

¤ تھکن
دماغی اور جسمانی محنت سے بدن تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک گلاس گرم پانی میں دو بڑے چمچ شہد ملا کر پئیں، جسم ہشاش بشاش ہو جائے گا۔

¤ فالج اور لقوہ
شہد خالص، ادرک کا پانی، پیاز کا پانی ایک یاک پاؤ لے کر بوتل میں ڈالیں۔ بوتل کا چوتھا حصہ خالی رہے۔ تین دن رکھنے کے بعد چھ چھ ماشہ روزانہ صبح استعمال کریں اور چار تولہ تک لے جائیں۔ ان شاء اللہ دونوں امراض سے نجات مل جائے گی۔

¤ یاد داشت
طالب علموں، اساتذہ، وکلا اور علماء کے لیے یہ معجون بہت مفید ہے۔
مال کنگنی مقشر (چھلی ہوئی) ۱۴ تولہ، دار فلفل ۱۰ تولہ، سونٹھ دس تولہ، عاقرقرحا چار تولہ، ان سب چیزوں کو پیس کر گائے کے گھی میں لت پت کریں اور دو گنا شہد ملا کر معجون بنائیں اور ایک تا دو چمچ صبح نہار منہ دودھ سے لیں۔ ان شاء اللہ یاد داشت تیز ہو جائے گی اور بچن کی بھولی ہوئی باتیں بھی یاد آنے لگیں گی۔

¤ کان بجنا
بعض مریضوں کے کانوں کے اندر باجے سے بجتے محسوس ہوتے ہیں اور بھن بھن کی آواز آتی ہے اس کے لیے چھ ماشہ شہد (ایک چھوٹی چمچ) میں چار رتی قلمی شورہ حل کر کے تھوڑے سے گرم پانی میں حل کر کے ۲۔۳ قطرے کانوں میں ٹپکائیں۔ ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔

¤ دانتوں کی مضبوطی
شہد کو سرکے میں ملا کر کلیاں کرنے سے دانت مضبوط ہو جاتے ہیں۔

¤ منہ کے زخم اور زبان پھٹنا
شہد ۷ تولہ، سہاگہ ایک تولہ، گلیسرین چھ ماشہ بوقت ضرورت منہ کے زخموں اور پھٹی ہوئی زبان پر لگائیں۔ چند دنوں میں فائدہ ہو گا۔

¤ عرق النساء
میرے بہت اچھے دوست قاری فصیح الدین عرق النساء کے دردوں کے لیے سملو، چاکسو، سونٹھ، مرچ سیاہ ۵۔۵ تولہ میں ایک کلو شہد خالص ملا کر صبح دوپہر شام دو دو چھوٹے چمچے کھلاتے ہیں۔ چند دنوں میں مرض رفع ہو جاتا ہے۔ مولانا عبدالرشید اصغر کھڈیاں کے نامور عالم ہیں۔ انہیں طب سے بھی شغف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مکئی کے بھٹے سے دانے اتار کر جلائیں اور دو گنا شہد ملا کر صبح دوپہر شام لیں، پرانی سے پرانی ہچکی تین دن میں دور ہو جائے گی۔

¤ امراض قلب
دل کے امراض کے لیے آب ادرک ۲۰ تولہ، شہد ۲۰ تولہ، لہسن ۲۰ تولہ کوٹ کر ان سب کو ملا لیں اور آگ پر جوش دیں۔ صبح دوپہر شام کھانے کے بعد ایک ایک چمچ لیں۔ دل کی اگر تین شریانیں بھی بند ہوں تو اس کے استعمال سے کھل جاتی ہیں۔
دل کے لیے دوسرا مفید نسخہ یہ ہے کہ ادرک کا پانی دس قطرے، لہسن کا پانی ۱۰ قطرے، سفید پیاز کا پانی ۱۰ قطرے، شہد آدھی چمچی ان سب کو ملا کر صبح و شام لیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کافی ہے۔

¤ پیشاب کی رکاوٹ
پیشاب کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے دو چھوٹے چمچے شہد ایک پیالی پانی میں حل کریں اور چار ماشہ سرد چینی شامل کر کے استعمال کرائیں۔ ان شاء اللہ فوراً پیشاب جاری ہو گا۔

¤ شوگر
شوگر کے علاج میں میٹھا منع ہے مگر شہد اگر خالص دستیاب ہو جائے تو صبح دوپہر شام ایک ایک چمچ میں چار چار رتی سلاجیت ملا کر استعمال کریں۔ اس سے شوگر اعتدال پر آ جائے گی۔

¤ موٹاپا
موٹاپا بہت خطرناک مرض ہے۔ اس سے نجات کے لیے چینی، چاول اور چکنائی سے پرہیز کریں اور ۲۵ تولہ شہد، ایک تولہ ان بجھا چونا کھرل کر کے کپڑے میں سے گزاریں اور روزانہ صبح شام چھ چھ ماشہ استعمال کریں۔اس کے مسلسل استعمال سے موٹاپا دور ہو جائے گا۔

¤ دیگر امراض
بولی تیزاب (Uric Acid) دور کرنے کے لیے صبح شام ایک چمچ شہد استعمال کریں۔ بولی تیزاب بدن سے خارج ہو جائے گا۔

¤ اگر کسی شخص کا مادہ تولید کمزور ہو، لذت مباشرت سے محروم ہو تو گرم دودھ میں شہد ملا کر رات کو پینے سے قوت بحال ہو جائے گی اور پشت میں طاقت آ جائے گی۔
سفید پیاز کا پانی ایک پاؤ، شہد خالص تین پاؤ ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں، جب پانی خشک ہو جائے اور صرف شہد باقی رہ جائے تو صبح نہار منہ اور رات سوتے وقت ایک ایک بڑی چمچ شہد استعمال کرے۔ فائدے خود ہی ظاہر ہو جائیں گے۔
جن خواتین کا رحم کمزور ہو اور اس وجہ سے حمل نہ ٹھہرتا ہو وہ اسگندھ ۲ تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب آدھ پاؤ رہ جائے تو ۲ تولہ شہد ایک تولہ گائے کا گھی، گائے کا دودھ پانچ تولہ اور مصری ایک تولہ ملا کر بوقت عصر نوش فرمائیں۔ یہ دوا حیض سے فارغ ہو کر ایک ہفتہ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ حمل قرار پا جائے گا۔

¤ بچوں کی اکثر امراص میں شہد مفید ہے۔ لذیذ ہونے کی وجہ سے بچے اسے شوق سے بھی کھاتے ہیں۔ بچوں کا وزن بڑھانے کے لیے شہد استعمال کرائیں۔

¤ آگ سے جلے ہوئے مریض بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ جلی ہوئی جگہ پر شہد لگائیں تو زخم ہی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ نشان بھی نہیں رہتا۔ ایک دفعہ ایک مزدور تیل کے بھرے ہوئے کڑاہے میں گر پڑا۔ پورا جسم جل گیا۔ پاس ہی شہد کے بھرے ہوئے تین چار کنستر پڑے تھے۔ مالکان نے فورا اس پر شہد کے کستر انڈیل دیے۔ کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آیا۔ ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے کہا اس کے جسم پر نہ زخم کے نشان ہیں نہ جلے کے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ جلے ہوئے مقام پر شہد لگانے سے مکمل فائدہ ہو جاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہد، حلوہ اور گوشت پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللّه علیہ وسلم ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ یہ بہترین غذا ہے۔
اگر کسی چیز کو شہد میں بھگو کر رکھیں تو وہ خراب نہیں ہو گی، خواہ کوئی پھل ہو، سبزی ہو یا گوشت حتیٰ کہ اگر کسی لاش کو خراب ہونے سے بچانا ہو تو اس کو بھی شہد لیپ کر رکھنا مفید ہے۔ اگر کسی زچہ خاتون کو دودھ کم اترتا ہو یا حیض تنگی سے آتا ہو تو صبح شام دو دو چمچ شہد کھانے سے مرض چلی جائے گی۔ شہد کے اتنے فائدے ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے۔