Home / Health Care in Urdu / خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے اور شہد کے فوائد

خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے اور شہد کے فوائد

benefits of honey in urdu
benefits of honey in urdu

خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے اور شہد کے فوائد

* فرج میں رکھنے سے جمتا نہیں .
* روٹی پہ لگا کر کتے کو ڈالو وہ کھائے گا نہیں.
* اصلی شہد پہ مکھی نہیں بیٹھتی .
* اصلی شھد کو کاٹن کے کپڑے پہ لگا کر بتی بناکر آگ لگا دو وہ دئیے کی طرح جلے گا.
٭ شہد کے چند قطرے جذب کرنے والے کاغذ پر پر ٹپکا دیں، اگر یہ کاغذ قطروں کو جذب کرگیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد خالص نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس جذب کرنے والا کاغذ نہیں ہے تو اس کے لئے آپ سفید کپڑا بھی استعمال کر سکتے، اس کپڑے پر شہد کے چند قطرے گرا کر تھوڑی دیر انہیں دھو لیں اگر تو کپڑے پر دھبے کا نشان رہ جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ شہد خالص نہیں ہے۔
* نمک کی ڈلی شہد میں گھمائیں۔ آپ جتنی دیر چاہے نمک حل کر لیں شہد میں نمک کا ذائقہ نہیں آئے گا۔
* ان بجھے چونے کی ایک چھوٹی سی ڈلی لے کر اسے تھوڑے سے شہد میں ڈبو دیں۔ اگر چونا ویسے ہی پڑا رہے تو شہد خالص ہے۔ اگر اس میں سے چڑ چڑ کی آواز آئے یا دھواں نکلے تو خالص نہیں ہے۔

* شہد کے خالص ہونے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو خالص شہد استعمال کرائیں تو ان کی شوگر نہیں بڑھتی۔

حضرت ابوہریرہؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص مہینے میں صبح تین دن شہد چاٹ لے اس کو اس مہینے میں کوئی بڑی بیماری لاحق نہ ہو گی۔
شہد کی افادیت کا علم آپ کو اس بات سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے شہد، دودھ اور شراب الصالحین کی نہریں بنائی ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّه عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا ’’حضورصلی اللہ علیہ وسلم! میرے بھائی کو دست لگے ہوئے ہیں، کوئی علاج تجویز فرمائیے۔‘‘
آپؐ صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا اسے شہد پلاؤ۔
وہ چلا گیا۔ اگلے روز پھر آیا اور کہنے لگا حضورؐ! صلی اللّه علیہ وسلم میں نے اسے شہد پلایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ آپؐ صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا اسے پھر شہد پلاؤ۔ تین چار دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللّه علیہ وسلم ؐنے فرمایا اللہ کا فرمان سچا ہے، تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّه عنہ ؓ فرماتے ہیں کہ شہد میں ہر جسمانی اور روحانی مرض کے لیے شفا ہے۔ اس لیے اے لوگو! تم قرآن مجید اور شہد دونوں کو تھامے رکھو۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّه عنہ ؓ قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے شہد سے ہر مرض کا علاج کرتے تھے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شہد کے شفا بخش ہونے میں تو بقول قرآن و حدیث کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ گرم مزاجوں کو موافق نہیں۔ اس لیے جب کسی گرم مزاج والے کو شہد استعمال کرائیں تو اس میں ٹھنڈی ادویہ کا اضافہ کر کے اس کی تعدیل کر لیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ شہد ملا پانی استعمال کرنے سے فائدہ بڑھ جاتا ہے۔
شہد بچے کی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک استعمال کرایا جاتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو گھٹی کے طور پر اسے شہد چٹایا جاتا ہے اور جب مریض قریب المرگ ہوتا ہے تب بھی حکیم جان بہ لب مریض کے لیے شہد ہی تجویز کرتا ہے۔ اس لحاظ سے شہد اولین غذا ہے اور آخری بھی …
لندن کے عجائب گھر میں فرعون کی لاش پر شہد کی مکھی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ سکندر اعظم کے زمانے میں لوگ شہد کے علاوہ کسی میٹھی چیز کے ذائقے سے متعارف نہ تھے۔
شہد مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔، دل، دماغ معدہ اور جگر کو طاقت بخشتا نیز قوت مردمی بڑھاتا ہے۔ اگر اس کو دودھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ مادہ منویہ پیدا کرتا ہے۔ مصفی خون ہے اور مولد خون بھی۔ آنکھوں کی بینائی تیز کرنے کے لیے آنکھوں میں لگایا جاتا ہے۔
شہد زخموں کو صاف اور مندمل کرتا ہے۔ ورموں کو پکاتا ہے اور پھوڑتا ہے۔ شہد اور مچلی کی چربی ہم وزن ملانے سے بہترین قسم کا مرہم تیار ہوتا ہے۔ شہد اور کلیجی کو ملا کر مرہم تیار کریں تو پھوڑے پھنسیوں اور زخموں کے لیے بے حد مفید ہے۔
اگرچہ شہد تقریباً ہر مرض کے لیے مفید ہے مگر ذیل میں اس کے چیدہ چیدہ فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔

¤ درد شقیقہ
یہ درد سر کے نصف حصہ میں ہوتا ہے۔ جو جوں سورج طلوع ہوتا ہے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ غروب آفتاب کے وقت درد ختم ہو جاتا ہے۔ مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سر ہتھوڑے سے توڑا جا رہا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس حصہ میں درد ہو اس کے مخالف سمت کے نتھنے میں ایک بوند شہد ڈالیں ان شاء اللہ فوراً افاقہ ہو گا۔

¤ تھکن
دماغی اور جسمانی محنت سے بدن تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک گلاس گرم پانی میں دو بڑے چمچ شہد ملا کر پئیں، جسم ہشاش بشاش ہو جائے گا۔

¤ فالج اور لقوہ
شہد خالص، ادرک کا پانی، پیاز کا پانی ایک یاک پاؤ لے کر بوتل میں ڈالیں۔ بوتل کا چوتھا حصہ خالی رہے۔ تین دن رکھنے کے بعد چھ چھ ماشہ روزانہ صبح استعمال کریں اور چار تولہ تک لے جائیں۔ ان شاء اللہ دونوں امراض سے نجات مل جائے گی۔

¤ یاد داشت
طالب علموں، اساتذہ، وکلا اور علماء کے لیے یہ معجون بہت مفید ہے۔
مال کنگنی مقشر (چھلی ہوئی) ۱۴ تولہ، دار فلفل ۱۰ تولہ، سونٹھ دس تولہ، عاقرقرحا چار تولہ، ان سب چیزوں کو پیس کر گائے کے گھی میں لت پت کریں اور دو گنا شہد ملا کر معجون بنائیں اور ایک تا دو چمچ صبح نہار منہ دودھ سے لیں۔ ان شاء اللہ یاد داشت تیز ہو جائے گی اور بچن کی بھولی ہوئی باتیں بھی یاد آنے لگیں گی۔

¤ کان بجنا
بعض مریضوں کے کانوں کے اندر باجے سے بجتے محسوس ہوتے ہیں اور بھن بھن کی آواز آتی ہے اس کے لیے چھ ماشہ شہد (ایک چھوٹی چمچ) میں چار رتی قلمی شورہ حل کر کے تھوڑے سے گرم پانی میں حل کر کے ۲۔۳ قطرے کانوں میں ٹپکائیں۔ ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔

¤ دانتوں کی مضبوطی
شہد کو سرکے میں ملا کر کلیاں کرنے سے دانت مضبوط ہو جاتے ہیں۔

¤ منہ کے زخم اور زبان پھٹنا
شہد ۷ تولہ، سہاگہ ایک تولہ، گلیسرین چھ ماشہ بوقت ضرورت منہ کے زخموں اور پھٹی ہوئی زبان پر لگائیں۔ چند دنوں میں فائدہ ہو گا۔

¤ عرق النساء
میرے بہت اچھے دوست قاری فصیح الدین عرق النساء کے دردوں کے لیے سملو، چاکسو، سونٹھ، مرچ سیاہ ۵۔۵ تولہ میں ایک کلو شہد خالص ملا کر صبح دوپہر شام دو دو چھوٹے چمچے کھلاتے ہیں۔ چند دنوں میں مرض رفع ہو جاتا ہے۔ مولانا عبدالرشید اصغر کھڈیاں کے نامور عالم ہیں۔ انہیں طب سے بھی شغف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مکئی کے بھٹے سے دانے اتار کر جلائیں اور دو گنا شہد ملا کر صبح دوپہر شام لیں، پرانی سے پرانی ہچکی تین دن میں دور ہو جائے گی۔

¤ امراض قلب
دل کے امراض کے لیے آب ادرک ۲۰ تولہ، شہد ۲۰ تولہ، لہسن ۲۰ تولہ کوٹ کر ان سب کو ملا لیں اور آگ پر جوش دیں۔ صبح دوپہر شام کھانے کے بعد ایک ایک چمچ لیں۔ دل کی اگر تین شریانیں بھی بند ہوں تو اس کے استعمال سے کھل جاتی ہیں۔
دل کے لیے دوسرا مفید نسخہ یہ ہے کہ ادرک کا پانی دس قطرے، لہسن کا پانی ۱۰ قطرے، سفید پیاز کا پانی ۱۰ قطرے، شہد آدھی چمچی ان سب کو ملا کر صبح و شام لیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کافی ہے۔

¤ پیشاب کی رکاوٹ
پیشاب کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے دو چھوٹے چمچے شہد ایک پیالی پانی میں حل کریں اور چار ماشہ سرد چینی شامل کر کے استعمال کرائیں۔ ان شاء اللہ فوراً پیشاب جاری ہو گا۔

¤ شوگر
شوگر کے علاج میں میٹھا منع ہے مگر شہد اگر خالص دستیاب ہو جائے تو صبح دوپہر شام ایک ایک چمچ میں چار چار رتی سلاجیت ملا کر استعمال کریں۔ اس سے شوگر اعتدال پر آ جائے گی۔

¤ موٹاپا
موٹاپا بہت خطرناک مرض ہے۔ اس سے نجات کے لیے چینی، چاول اور چکنائی سے پرہیز کریں اور ۲۵ تولہ شہد، ایک تولہ ان بجھا چونا کھرل کر کے کپڑے میں سے گزاریں اور روزانہ صبح شام چھ چھ ماشہ استعمال کریں۔اس کے مسلسل استعمال سے موٹاپا دور ہو جائے گا۔

¤ دیگر امراض
بولی تیزاب (Uric Acid) دور کرنے کے لیے صبح شام ایک چمچ شہد استعمال کریں۔ بولی تیزاب بدن سے خارج ہو جائے گا۔

¤ اگر کسی شخص کا مادہ تولید کمزور ہو، لذت مباشرت سے محروم ہو تو گرم دودھ میں شہد ملا کر رات کو پینے سے قوت بحال ہو جائے گی اور پشت میں طاقت آ جائے گی۔
سفید پیاز کا پانی ایک پاؤ، شہد خالص تین پاؤ ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں، جب پانی خشک ہو جائے اور صرف شہد باقی رہ جائے تو صبح نہار منہ اور رات سوتے وقت ایک ایک بڑی چمچ شہد استعمال کرے۔ فائدے خود ہی ظاہر ہو جائیں گے۔
جن خواتین کا رحم کمزور ہو اور اس وجہ سے حمل نہ ٹھہرتا ہو وہ اسگندھ ۲ تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب آدھ پاؤ رہ جائے تو ۲ تولہ شہد ایک تولہ گائے کا گھی، گائے کا دودھ پانچ تولہ اور مصری ایک تولہ ملا کر بوقت عصر نوش فرمائیں۔ یہ دوا حیض سے فارغ ہو کر ایک ہفتہ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ حمل قرار پا جائے گا۔

¤ بچوں کی اکثر امراص میں شہد مفید ہے۔ لذیذ ہونے کی وجہ سے بچے اسے شوق سے بھی کھاتے ہیں۔ بچوں کا وزن بڑھانے کے لیے شہد استعمال کرائیں۔

¤ آگ سے جلے ہوئے مریض بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ جلی ہوئی جگہ پر شہد لگائیں تو زخم ہی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ نشان بھی نہیں رہتا۔ ایک دفعہ ایک مزدور تیل کے بھرے ہوئے کڑاہے میں گر پڑا۔ پورا جسم جل گیا۔ پاس ہی شہد کے بھرے ہوئے تین چار کنستر پڑے تھے۔ مالکان نے فورا اس پر شہد کے کستر انڈیل دیے۔ کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آیا۔ ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے کہا اس کے جسم پر نہ زخم کے نشان ہیں نہ جلے کے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ جلے ہوئے مقام پر شہد لگانے سے مکمل فائدہ ہو جاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہد، حلوہ اور گوشت پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللّه علیہ وسلم ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ یہ بہترین غذا ہے۔
اگر کسی چیز کو شہد میں بھگو کر رکھیں تو وہ خراب نہیں ہو گی، خواہ کوئی پھل ہو، سبزی ہو یا گوشت حتیٰ کہ اگر کسی لاش کو خراب ہونے سے بچانا ہو تو اس کو بھی شہد لیپ کر رکھنا مفید ہے۔ اگر کسی زچہ خاتون کو دودھ کم اترتا ہو یا حیض تنگی سے آتا ہو تو صبح شام دو دو چمچ شہد کھانے سے مرض چلی جائے گی۔ شہد کے اتنے فائدے ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *